غارت زدہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - لٹا ہوا، تباہ و برباد۔ "غالب نے عزیزوں دوستوں کو خط لکھے اور اطلاع دی کہ دلی اب ایک غارت زدہ شہر ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'غارت' کے بعد فارسی مصدر 'زدن' کا صیغہ حالیہ تمام 'زدہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٨٢٤ء کو "دیوان مصحفی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لٹا ہوا، تباہ و برباد۔ "غالب نے عزیزوں دوستوں کو خط لکھے اور اطلاع دی کہ دلی اب ایک غارت زدہ شہر ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١١ )